10 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے لبنان میں اغواء کۓ جانے والے چار ایرانی سفارتکاروں کی صورتحال واضح ہونے کے لۓ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے لبنان میں اغواء کۓ جانے والے چار ایرانی سفارتکاروں کے اغواء کو  آج تیس سال مکمل ہونے کے موقع پرتہران میں انجام پانے والی رسومات میں چارایرانی سفارتکاروں کی صورتحال سے آگاہ ہونے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے زیادہ سرگرم کردار ادا کۓ جانے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹی جنرل بان کی مون کی آمادگی  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر ٹھوس قدم اٹھائيں۔

علی اکبر صالحی نے ان چار سفارتکاروں سے متعلق صہیونی ریاست کی جانب سے سنہ دو ہزار آٹھ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس رپورٹ کی وجہ سے اس معاملے کے سلسلے میں صہیونی ریاست کی ذمےداری نہ صرف  کم نہیں ہوئي ہے بلکہ اس رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ لبنان سے چار ایرانی سفاتکاروں کو اغواء کرنے والوں اور صہیونی ریاست کے درمیان رابطہ پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ چار جولائي انیس سو بیاسی کو جب اسرائیل نے لبنان کے خلاف جارحیت کی تھی تو اس وقت پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق بیروت میں تعینات چار ایرانی سفارتکاروں کو اغواء کرلیا گیا تھا۔

بیروت میں اس وقت کے ایرانی ناظم الامور محسن موسوی ، ایرانی سفارتکار تقی رستگار مقدم ، فوجی اتاشی احمد متوسلیان اورایرانی کیمرہ مین اور نامہ نگار کاظم اخوان کو ، جب وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کی گاڑی میں اور لبنان کی ڈپلومیٹیک پولیس کی سیکورٹی میں اپنی ڈیوٹی پر جارہے تھے ، صہیونی ریاست کے مسلح کارندوں نے تمام عالمی قوانین اور سفارتی تحفظ کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ  بربارہ کے علاقے میں واقع ایک چیک پوسٹ سے گرفتار کر کے مقبوضہ فلسطین منتقل کردیا۔.......

/169